Tariq Jamil Biography
طارق جمیل کی سوانح عمری۔
مولانا طارق جمیل صاحب ایک پاکستانی عالم دین مذہبی سکالر اسلامی کرائٹر اور تبلیغی جماعت کے رکن ہیں جن کی کوششوں سے کئی اداکار کھلاڑی اور فنکار بھی نے اسلام کی طرف راغب ہوئے انشاءاللہ اج کے اس دلچسپ مضمون میں ہم اپ کو مولانا صاحب کی ابتدائی زندگی ان کے دلچسپ حالات و واقعات تعلیمی سفر کٹھن تجربات تسنیفات اور مذہبی خدمات کے بارے میں تفصیلا بتائیں گے.
مولانا طارق جمیل یکم اکتوبر 1953 کو صوبائی پنجاب کے شہر طلبا میں پیدا ہوئے جو کہ میاں چنو کے قریب واقع ہے مولانا طارق جمیل ساہو خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ چوہان راجپوت کی قسم ہے شیر شاہ سوئی کے دور میں ان کا خاندان طلبہ میں حکمران تھا اور تنمبا کے ارد گرد کی زمین بعد اذاں ان کے خاندان میں تقسیم ہو گئی.
انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹرل ماڈل سکول لاہور سے حاصل کی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بھی وہ زیر تعلیم رہ چکے ہیں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں پری میڈیکل کے بعد انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا کیونکہ اپ کے والد محترم اپ کو ایک ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے.
لیکن یہاں ا کر ان کے دل میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے اپ نے ایم بی بی ایس کیے بغیر بکنگ ایڈورڈ کو خدا حافظ کہہ دیا اس کی وجہ ان کا دوران تعلیم تبلیغی جماعت سے متعارف ہونا تھا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے تھے.
مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ ایک روز جب وہ اپنے ہوسٹل میں سوئے ہوئے تھے تو عزیز اللہ نامی ان کے دوست نے ا کر ان کی جگایا اور اپنے ساتھ چلنے کو کہا یہ جمعۃ مبارک کا دن تھا وہ سمجھے کہ جمعہ کے روز کوئی فلم ریلیز ہوئی ہوگی تو شاید وہ دیکھنے کے لیے اپنے ساتھ لے کے جا رہا ہے یہ سننے کے بعد وہ اپنے دوست کے ساتھ چل پڑی تو راستے میں ان کے دوست نے ان سے کہا کہ پہلے ہم نے جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے.
اس پر مولانا صاحب سمجھے کہ شاید سیکنڈ شو کی بکنگ ہوگی اس لیے پہلے جمعہ پڑھ لیتے ہیں پھر انہوں نے نیلا گنبد کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی اس کے بعد اپ کے دوست نے کہا کہ اب تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا ہے.
اس پر مولانا صاحب نے کہا کہ میں نہیں جا رہا مگر اپ کا دوست اپ کو زبردستی ساتھ لے گیا مولانا صاحب اس دور میں اپنے کالج کے بہترین سنگر بھی ہوا کرتے تھے اور مختلف فنکشن پر سنگنگ کرتے اور بہت مقبول تھے.
اپنے دوست کے ساتھ وہ تین دن تبلیغی جماعت کے ساتھ رہے مولانا صاحب اس تجربے سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے سوچا کہ اگر اس وقت میں مر جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا جنت میں یا دوزخ میں اسی سوچ بچار میں انہوں نے تین دن کی بجائے.
چار ماہ تبلیغ سے منسلک ہونے کا فیصلہ کر لیا ناظرین مولانا صاحب ایک بڑی زمیندار فیملی سے تعلق رکھتے تھے اس چار ماہ کے سفر کے بعد انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اب ڈاکٹر نہیں بنیں گے بلکہ مولوی بنیں گے.
اس فیصلے کے بعد ان کو خاندان سے لعنطان اور گالیاں بھی سننا پڑی ان کے دیہات میں امام مقصد کی تنخواہ نہیں ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے وہاں کا امام مسجد مغرب کے بعد برتن اٹھا کر پورے گاؤں کے چکر لگاتا اور ہر گھر سے کھانا لے کر اپنے گھر لوٹتا جس پر وہ اور اس کے بال بچے گزارا کرتے تھے.
اس کا نام محمد بخش تھا تو مولانا صاحب کے خاندان والے انہیں ان امام صاحب کی مثال دیتے کہ تمہارا انجام تو یہ ہے نہ ہی تمہیں کوئی رشتہ دے گا اور نہ ہی تمہاری کوئی معاشرے میں عزت ہوگی ان کے ڈیرے پر ان کے والد پایا جان اور گاؤں کے تمام بزرگ انہیں سمجھاتے اور تذلیل کرتے اور انہیں چھ سے سات ماہ تک یہ سب برداشت کرنا پڑا مگر اپ نے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا اللہ رب العزت نے انہیں اپنے کام کے لیے چن لیا تھا.
تو ناظرین 23 نومبر 1972 کو ہفتے کا دن تھا مولانا صاحب ناشتہ کر رہے تھے کہ اتنے میں ان کے والد محترم شریف جلال میں گھر میں داخل ہوئے اور انہوں نے طارق جمیل کو حکم دیا کہ اگر تم نے مولوی بننا ہے تو میرے گھر سے نکل جاؤ مولانا صاحب نے رنجیدہ ہو کر بستر اٹھایا اور رائیونڈ چلے گئے.
انہوں نے مذہبی تعلیم جامعہ عربیہ رائیونڈ سے حاصل کی جہاں انہوں نے قران و حدیث فقہ تصوف اور شریعت اور اسلامی علم قانون کی تعلیم حاصل کی مولانا طارق جمیل صاحب کو یہ قدم اٹھانے کے بعد خاندان اور معاشرے کی کڑوی باتوں کو سننا پڑا.
مگر انہیں اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں کی کیونکہ ان کا دل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر مائل ہو چکا تھا وہ اپنے انداز بیاں کے باعث بہت مشہور ہیں اور اپنے خطبات میں تزکیہ نفس اللہ کے احکامات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے اور انسانیت سے محبت کرنے کا درس دیتے ہیں ناظرین مولوی بننے کی وجہ سے انہیں کوئی شادی کے لیے رشتہ نہیں دیتا تھا.
ایک مرتبہ جب مولانا صاحب خطبہ دے رہے تھے تو ایک عورت نے سرگوشی کی کہ مولانا صاحب کی شادی ہو چکی ہے یا نہیں اتفاق سے اس کے قریب مولانا صاحب کی بہن بیٹھی ہوئی تھی انہوں نے جواب دیا کہ مولانا صاحب کو کوئی رشتہ ہی نہیں دیتا پھر اسی عورت نے مولانا صاحب کو اپنا داماد بنانے کا فیصلہ کیا اور ان کی شادی ہو گئی.
وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ چھ براعظموں کا سفر کر چکے ہیں اور ان کے بیانات انٹرنیٹ اور مختلف سوشل پیٹ فارمز اور ویب سائٹس پر فیس کیے جاتے ہیں بڑی تعداد میں لوگ ان کی باتیں سنتے ہیں ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر کئی معروف شخصیات دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں.
اس کے علاوہ جنید جمشید معروف کرکٹر انضمام الحق اور سعید انور ایکس منی ملک اور معروف اداکار عامر خان ان سے متاثر ہو کر اسلام کی جانب راغب ہوئے وہ فرقہ واریت کی سخت مخالفت کرتے ہیں 2020 میں گورنمنٹ اف پاکستان نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تمغائے حسن کارکردگی پیش کیا.
اس کے علاوہ جورڈن کے رائل البیت انسٹیٹیوٹ پر اسلامک تھاٹ کی 500 موسٹ انفلوئنشل مسلم میں 2013 کا 2019 میں بھی وہ شامل ہے ان کی تصنیفات میں مجموعہ بیانات جمیل 2014 ہمارے مسائل کا حل 2014 اور گلدستہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں.
مولانا صاحب کے دو صاحبزادے ہیں جن کے نام مولانا یوسف جمیل اور عاصم جمیل ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کا سایہ شفقت ہمیشہ ہمارے سر پر قائم و دائم رکھے اور وہ اسی طرح اسلام اور ملک و قوم کی خدمت کرتے رہیں اللہ تعالی ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنے اور ان جیسے محسن کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
Tariq Jamil Biography and Life Story
Maulana Tariq Jameel Sahib is a Pakistani religious scholar, religious scholar, Islamic creator and member of Tablighi Jamaat, through whose efforts many actors, sportsmen and artists were also attracted to Islam. Interesting situations and events, educational journeys, difficult experiences, works, and religious services will be told in detail.
Maulana Tariq Jameel was born on October 1, 1953 in the city of Talaba in the province of Punjab, which is located near Mian Chanu. was the ruler and the land around Tanamba was divided among his family after Azan.
He got his primary education from Central Model School Lahore and he has also been studying in Government College University Lahore. wanted to make.
But here, a tendency to get religious education arose in his heart, due to which he called Booking Edward God Hafiz without doing MBBS. He was very impressed.
Maulana Sahib says that one day when he was sleeping in his hostel, his friend named Azizullah woke him up and asked him to come with him. After hearing that he was taking her with him to see her, she walked with her friend. On the way, her friend told her that first we have to perform Friday prayers.
On this, Maulana Sahib thought that maybe the second show would be booked, so he read Friday first, then he offered Friday prayers in Nila Gonbad Mosque, after that his friend said that now he has to go with the Tablighi Jamaat.
On this, Maulana Sahib said that I am not going, but your friend took you with him forcibly. Maulana Sahib used to be the best singer of his college during that period and used to sing at various functions and was very popular.
Along with his friend, he stayed with the Tablighi Jamaat for three days. Maulana Sahib was very impressed by this experience and he thought that if I die at that time, where will I go, in heaven or in hell, he spent three days in this thought. instead of
Maulana Sahib, who belonged to a large zamindar family, decided to join tabligh for four months.
After this decision, he had to listen to curses and insults from his family. In his villages, the imam used to have no salary, due to which the imam of the mosque used to go around the entire village carrying dishes after sunset and take food from every house. He would take it and return to his home where he and his children used to spend their time.
His name was Muhammad Bakhsh, so the family of Maulana Sahib used to give him the example of Imam Sahib, saying that this is your fate, neither will you have any relationship nor will you have any respect in the society. And all the elders of the village used to explain and humiliate him and he had to bear all this for six to seven months, but he showed patience. Allah, the Most High, had chosen him for his work.
So viewers, on 23rd November 1972, it was a Saturday, Maulana Sahib was having his breakfast, and at that time his father, Mr. Sharif Jalal, entered the house and ordered Tariq Jameel that if you want to become a Maulvi, leave my house. Jau Maulana Sahib got upset and took up the bed and went to Raiwand.
He received his religious education from Jamia Arabia Raiwand, where he studied Quran and Hadith, Fiqh, Sufism, Shariat and Islamic Law.
But he did not care at all about this because his heart was inclined to the path of Allah and His Messenger (peace and blessings of Allah be upon him). They teach the path of Muhammad (peace be upon him) and to love humanity.
Once when Maulana Sahib was giving a sermon, a woman whispered that Maulana Sahib was married or not. Coincidentally, Maulana Sahib's sister was sitting near her. Then the same woman decided to make Maulana Sahib her son-in-law and they got married.
He has traveled to six continents with the Tablighi Jamaat and his statements are shared on the Internet and various social pet forms and websites. Entered Islam.
Apart from this, Junaid Jamshed, the famous cricketer Inzamam-ul-Haq and Saeed Anwar x Mini Malik and the famous actor Aamir Khan were influenced by him and attracted towards Islam. They are strongly opposed to sectarianism. He was presented with a medal for good performance.
Apart from this, he is also included in the 500 Most Influential Muslims of Islamic Thought of Jordan's Royal Al Bait Institute in 2013 and 2019. His works include the collection Bayanat Jameel 2014, the solution of our problems 2014, and the bouquet of Ahl al-Bayt Rizwanullah Alaihim Ajameen.
Maulana Sahib has two sons, whose names are Maulana Yusuf Jameel and Asim Jameel. We pray that Allah, the Exalted, may always keep his shadow and mercy on our heads and may he continue to serve Islam and the country and the nation in the same way. Grant us the opportunity to follow his teachings and appreciate a benefactor like him.
QUERIES SOLVED✅
1- Molana Tariq jameel ki zindagi ki kahani
2- Molana Tariq jameel motivational success story and Biography
3- Molana Tariq jameel ramzan bayan 2021
4- Documentary of Molana Tariq jameel Urdu
5- Biography of Molana Tariq jameel
6- Lifestyle of Molana Tariq jameel
7- Life story of Maulana Tariq jameel Hindi
8- Maulana Tariq Jamil Life Story latest 2021
9- Molana Tariq jameel funny
10- Molana Tariq jameel speeches
Tags:
Green pk production,greenpkproduction,Molana Tariq jameel Biography,success and failure story in urdu,success story hindi,success story in urdu,success story,maulana tariq jameel,Life story of Molana Tariq jameel,Biography of Molana Tariq jameel,molana tariq jameel new bayan,Biography,Molana Tariq jameel untold story,Molana Tariq jameel interview,tariq jameel,maulana tariq jameel bayan,tariq jameel bayan,maulana,tariq,jameel,bayan,new,latest,islam,urdu,Tariq Jamil
0 Comments